تکافل کی شرح نمو انشورنس کی نسبت 35فیصد زائدہی
کراچی(اسٹاف رپورٹر)تکافل کی شرح نمو روایتی انشورنس کے مقابلے میں 35فیصد تیزہے جبکہ تکافل کا موجودہ عالمی سائز 4.3ارب ڈالر سے بڑھ کر 2012ءتک 8 ارب ڈالر ہونے کے یقینی امکانات موجودہیں۔ ان خیالات کا اظہار پاک قطر فیملی تکافل اور جنرل تکافل کے چیف ایگزیکٹو آفیسر پی احمد اورپاک قطر جنرل تکافل کے سی ای او روحیل علی خان نے کراچی چیمبر آف کامرس کی بینکنگ اور انشورنس کی سب کمیٹی کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ اس موقع پر کے سی سی آئی کی بینکنگ سب کمیٹی کے چیئرمین عتیق الرحمان بھی موجود تھے۔ پی احمد نے کہا کہ تکافل روایتی انشورنس کا متبادل ہے جوکہ بھائی چارے اور باہمی تعاون پر مبنی نظام ہی، تکافل مالی تحفظ فراہم کرنے والا شفاف نظام ہے جہاں وقف فنڈ کے ذریعے ضرورت مندحصہ دار کو وقت پر مالی تحفظ فراہم کیا جاتا ہی، پاکستان میں تکافل کی ترقی کے بڑے واضح امکانات موجود ہیں کیونکہ پاکستان کے جی ڈی پی کا صرف 0.6 فیصد انشورنس سیکٹر کو جاتاہے ۔انہوں نے بتایاکہ بچت کے حوالے سے پاکستان کا نمبر ان11 ملکوں میں تیسرا ہے جہاں بچت کی شرح دنیا میں سب سے کم ہے جس سے ثابت ہوتاہے کہ تکافل کے ذریعے لوگوں میں بچت کی عادت کو فروغ دیاجاسکتاہے۔ روحیل علی نے کہا کہ تکافل کمپنیاں اپنی سرمایہ کاری صرف حلال اور شریعہ کے اصولوں کے مطابق کاروبار وں میں کرسکتی ہیں، جس کی نگرانی شریعہ بورڈ کرتا ہے۔ تکافل کمپنیاں گورنمنٹ سیکوریٹیز، غیر حرکت پذیر جائدار، جوائنٹ اسٹاک کمپنیز، میوچل فنڈز، مشارکہ سرٹیفکیٹ، ٹرم فنانس سرٹیفکیٹ اور شراکتی ٹرم سرٹیفکیٹ میں سرمایہ کاری کرسکتی ہیں۔انہوں نے کہاکہ ملک کی 97فیصدآبادی مسلمانوں کی ہے جس میں سے 60فیصد آبادی 25سال سے کم عمر لوگوں کی ہی، لاکھوں لوگ روایتی انشورنس کے حرام ہونے کی وجہ سے اس جانب راغب نہیں ہوتے تھے اب ان کیلئے مالی تحفظ حاصل کرنے کیلئے ایک مکمل حلال اور اسلامی طریقہ موجودہے۔
No comments:
Post a Comment