سٹیٹ لائف کی ایک بلڈنگ کا آڈٹ، پالیسی ہولڈرز کو 26 کروڑ کے نقصان کا انکشاف
کراچی (سہیل افضل/اسٹاف رپورٹر) آڈیٹر جنرل آف پاکستان نے اسٹیٹ لائف انشورنس کارپوریشن کی انتظامیہ کو امانت میں خیانت کا مرتکب قرار دیتے ہوئے صرف ایک بلڈنگ کے آڈٹ میں پالیسی ہولڈرز کو 26 کروڑ کا نقصان پہنچانے کا ذمہ دار قرار دیا ہے تاہم موجودہ چیئرمین شاہد عزیز کا موقف ہے کہ ان معاملات کی ذمہ دار سابق انتظامیہ ہے، اب اس مسئلے کو حل کرلیا گیا ہے۔ تفصیلات کے مطابق کارپوریشن کے ایک جنرل منیجر کی درخواست پر آڈیٹر جنرل آف پاکستان نے کارپوریشن کے ذیلی ادارے عبداللہ ہارون روڈ پراپرٹی پرائیویٹ لمیٹڈ (اسٹیٹ لائف بلڈنگ نمبر10) کا آڈٹ کیا تو حیرت انگیز انکشافات ہوئے۔ اسٹیٹ لائف انشورنس کارپوریشن کی ملک بھر میں52 عمارتیں ہیں جوکہ پالیسی ہولڈرز کے پیسے سے خریدی گئی ہیں۔ کارپوریشن میں رئیل اسٹیٹ کا باقاعدہ ایک شعبہ قائم ہے جوکہ کمرشل بنیادوں پر عمارتیں خرید کر ان کی آمدنی کو پالیسی ہولڈرز کے منافع میں شامل کرتا ہے تاہم آڈیٹر جنرل کی جانب سے کئے جانے والے اسپیشل آڈٹ میں یہ بات سامنے آئی کہ بلڈنگ نمبرI جوکہ کمرشل مقاصد کے لئے خریدی گئی تھی اسے کارپوریشن کے سینئر افسران نے طویل عرصے تک اپنی رہائش گاہ کے لئے استعمال کیا۔ حیرت انگیز طور پر یہ بات بھی سامنے آئی کہ بلڈنگ کی دیکھ بھال، پانی، بجلی کے اخراجات بھی پالیسی ہولڈرز کے پیسے سے ادا کئے جاتے رہے۔ آڈٹ رپورٹ میں یہ بھی انکشاف کیا گیا کہ یہ جائیداد بورڈ آف ڈائریکٹرز کی منظوری کے بغیر خریدی گئی۔ رپورٹ کے مطابق اگر عمارت کمرشل بنیادوں پر استعمال کی جاتی تو ادارے کو کروڑوں روپے کا کرایہ وصول ہوتا جوکہ پالیسی ہولڈرز کے منافع میں شامل ہوتا۔ آڈٹ رپورٹ میں واضح طور پر کہا گیا ہے کہ معاملات کے ذمہ داروں کا تعین کر کے انہیں سزا دی جائے اور ان سے یہ رقم وصول کی جائے مگر کئی ماہ گزر جانے کے باوجود کارپوریشن انتظامیہ نے اس سلسلے میں کوئی پیشرفت نہیں کی یہاں تک کہ کارپوریشن کی سبسڈری کمیٹی کا ڈائریکٹر بدستور عمارت کو رہائشی مقاصد کے لئے استعمال کر رہا ہے۔ وزارت تجارت اور سیکورٹی ایکسچینج کمیشن کی جانب سے بھی کارپوریشن کے چیئرمین کو لکھے گئے خط میں آڈٹ رپورٹ پر کمنٹس طلب کئے ہیں لیکن کارپوریشن انتظامیہ نے تاحال سیکورٹی ایکسچینج کمیشن کو اپنے موقف سے آگاہ نہیں کیا۔ آڈیٹر جنرل نے اپنی رپورٹ میں کہا ہے کہ اگر مزید عمارتوں کا آڈٹ کیا جائے تو مزید انکشاف کی توقع ہے۔ خبر پر موقف جاننے کے لئے جنگ نے چیئرمین کارپوریشن شاہد عزیز صدیقی سے رابطہ کیا تو ان کا موقف تھا کہ یہ ان سے پہلے کے معاملات ہیں، اب معاملہ حل کرلیا گیا ہے۔ انہوں نے تسلیم کیا کہ ایک ڈائریکٹر اب بھی وہاں رہائش پذیر ہیں۔ سیکیورٹی ایکسچینج کمیشن کی جانب سے لکھے گئے خط پر ان کا موٴقف تھا کہSECP والے چونکہ اس بلڈنگ کو کرایہ پر لینا چاہتے ہیں اس لئے وہ خط لکھ رہے ہیں۔
No comments:
Post a Comment