ہمارا مقصد تمام انسانوں کی خد مت کرنا ہے: کے اے صدیق حسن
نئی دہلی : ہم ہیومن ویلفیر فاوندیشن کے تحت سماجی خدمت کے مختلف پروجیکٹوں کے ذریعے اہل خیرحضرات کے تعاون سے ان لوگوں کی مدد کر رہے ہیں جو زندگی کے بنیادی وسائل سے محروم ہیں ۔ ہم بنیادی طور پر تعلیم صحت روزگار قانونی امداد اور ناگہانی حالات میں امداد اور بازآبادکاری اورسماجی خدمت کے دیگر میدانوں میں کام کر رہے ہیں۔ہمارا مقصد تمام انسانوں کی خدمت کرنا ہے۔ مذکورہ بالا باتیں ملک کی معروف سماجی تنظیم ہیومن ویلفیر نئی دہلی : ہم ہیومن ویلفیر فاوندیشن کے تحت سماجی خدمت کے مختلف پروجیکٹوں کے ذریعے اہل خیرحضرات کے تعاون سے ان لوگوں کی مدد کر رہے ہیں جو زندگی کے بنیادی وسائل سے محروم ہیں ۔ ہم بنیادی طور پر تعلیم صحت روزگار قانونی امداد اور ناگہانی حالات میں امداد اور بازآبادکاری اورسماجی خدمت کے دیگر میدانوں میں کام کر رہے ہیں۔ہمارا مقصد تمام انسانوں کی خدمت کرنا ہے۔ مذکورہ بالا باتیں ملک کی معروف سماجی تنظیم ہیومن ویلفیر فاونڈیشن کے جنرل سیکریٹری پروفیسر کے ۔اے۔ صدیق حسن نے دہلی میں اخبار نویسوں سے گفتگو کے دوران کہیں انہوں نے مزید کہا کہ ہم بلا تفریق مذہب و ملت تمام انسانوں کی خدمت کر رہے ہیں ۔ہم نے کام کا آغاز دس سالہ منصوبے کے تحت وزن 2016 کے نام سے کیا ہے جو ملک گیر سطح پر جاری ہے ۔منصوبے کا پہلا ہدف ملک کے مختلف حصوں کے 58اضلاع میں بسنے والے مسلمانوں کی عمومی صورت حال کو بہتر بنانا ہے ۔ پروگرام کی تفصیل کا ذکر کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ہم تعلیم ،صحت اور روزگار کی فراہمی کے ساتھ ساتھ قانون امداد اور ناگہانی حالات میںامداد اور راحت کاری کے لیے کا م کر رہے ہیں۔یہ پوچھے جانے پر کہ تعلیم صحت اور روزگار کی فراہمی کے مید ان میںمنصوبے کی تفصیل کیا ہے ؟ انہوں نے بتایا کہ ہمارا ماننا ہے کہ تعلیم پر توجہ دیے بغیر سماجی ترقی کا کوئی خواب شرمندہءتعبیر نہیں ہو سکتا اسی لیے ہم نے ملک کی مختلف ریاستوں میں2016 تک ایک ہزار اسکولوں کا قیام ،اعلی تعلیم کے لیے ایک لاکھ طلبا کواسکالر شپ ،اسکالرشپ بطور قرض کی اسکیم کے لیے سرمایہ کا اجراء ہر ریاست میں طلبا کی رہنمائی کے لیے مرکز،ہر ریاست کے لیے ہاسٹل ،دس خصوصی اسکول ،دس ہزار طالبات کے لیے خصوصی اسکالر شپ اسکیم،دس دارالیتام اور ایک ہزار یتیموں کی کفالت کا منصوبہ تیار کیا ہے۔ صحت کے میدان میں جاری فاونڈیشن کے منصوبے کے بارے میںمسٹرحسن نے بتایاکہ شعبہ¾ہ طب وصحت کے میدان میں بڑھتی تجارت کاری کے سبب علاج کی سہولتیں غریبوں کی رسائی سے دور ہو چکی ہیں وزن کے تحت ہم ضرورت مندوں ا ورغریب مریضوں کے لیے رعایتی اور کم لاگت پر انتہائی اعلی سطح کی طبی سہولتیں فراہم کرنے کی کوشش کر رہے ہیں س کے تحت ملک کے مختلف حصوں میں 100کلینک ،ایک میڈیکل کالج ،دس سپر اسپیشلٹی ہاسپٹل ،دس اجتماعی ہیلتھ انشورنس پروگرام ،دس موبائیل دواخانے ،ایک ہزار میڈیکل کیمپ ،ملک بھر میں خون عطیہ دہندگان کے ایک ہزار گروپ تیار کرنااور ہرریاست میں ایک بلڈ بنک اور ملک بھر میںطبی معائنے کے بیس مراکز سمیت دیگر اسکیمیں زیر عمل ہیں۔ ایک دیگر سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ سماجی اعتبار سے محروم اور پسماندہ افراد کی طویل مدتی ترقی کے لیے ضروری ہے کہ انہیں اپنے پیروں پر کھڑا کیا جا ئے وزن کے تحت ہم نے روزگار کی فراہمی کو بڑی اہمیت دی ہے ہر ر یا ست میں زکوت کے مراکز کا قیام،قومی سطح پر ایک پراجیکٹ فنڈ ،مختلف پراجیکٹس کے لیے کفالت کی اسکیمیں ،امدا باہمی کی انجمنیں ،تکافل پر مبنی ایک انشورنس اسکیم، پانچ سو بلا سودی سوسائٹیوں کا قیام ، دس ہزار خواتین کوملازمت کے مواقع اور دس ہزار مردوں کے لیے روزگار مہیا کرانا شامل ہے ،اس کے علاوہ قانونی امداد کے لیے ہر ریاست میں لیگل سیل کاقیام اور ملکی سطح پر ایک قومی تنطیم کے قیام کی کوشش جاری ہے ناگہانی حالات میں امداد اور ا حت کاری کے لیے ایک ہزار رضاکاروں پر مشتمل ایک رضاکار دستے کی تشکیل کا عمل جاری ہے ۔ وزن کے مقررہ وقت پر تکمیل کے سوال پر مسٹر حسن نے کہا کہ فی الحال کام کی رفتار کار سے ہم مطمئن ہیں ہمیں پورا اعتماد ہے کہ ہم اپنے مخلص کارکنوں اور ہمدردوں کی مدد سے اسے 2016 تک مکمل کرلیں گے، اس عظیم سماجی کام میں ہمیں ملک کی سرکردہ شخصیات کی سر پرستی اور راہنمائی حاصل ہے سید حامد صاحب چا نسلر جامعہ ہمدرد فاوندیشن کے چیرمین ہیں ان کے علاوہ سراج حسین (آئی ۔اے۔ ایس) منطوراحمد سابق (آئی ۔ پی۔ ایس ) ڈاکٹر پی محمد علی گلفار کنسٹرکشن مسقت (عمان)اور ماہر تعلیم ڈاکٹر بشیر کنیل کیرالا سمیت دیگر احباب کا تعاون حاصل ہے پہلا مرحلہ 2011تکمکمل ہونے کے قوی امکان ہیں۔
No comments:
Post a Comment