شعر ہم جو لکھتے تھے
اس پری وش کو دیتے تھے
اس کے اک تبسم میں شعر سارے ڈھلتے تھے
اس کے ناز نخروں سے خوب دل بہلتا تھا
ہم پہ جو گزرتی تھی
ہم ہی جانتے تھے وہ
اس کو اس سے کیا مطلب
اس کی دل لگی ٹہری
اپنی جان سولی پر آج بھی لٹکتی ہے
اس کی شوخیاں ہم کو اب بھی یاد آتی ہیں۔
عطا محمد تبسم
اس پری وش کو دیتے تھے
اس کے اک تبسم میں شعر سارے ڈھلتے تھے
اس کے ناز نخروں سے خوب دل بہلتا تھا
ہم پہ جو گزرتی تھی
ہم ہی جانتے تھے وہ
اس کو اس سے کیا مطلب
اس کی دل لگی ٹہری
اپنی جان سولی پر آج بھی لٹکتی ہے
اس کی شوخیاں ہم کو اب بھی یاد آتی ہیں۔
عطا محمد تبسم
No comments:
Post a Comment