Friday, March 16, 2012



انشورنس میں دھوکہ دہی کے واقعات
 تحریر عطا محمد تبسم

میری کلاس فیلو کا ایک دن فون آیا۔اس نے ایک انشورنس پالیسی لی تھی۔ جس ایجنٹ نے اسے پالیسی دی تھی۔ وہ پریئمئیم لے کر گیا تو واپس نہ آیا ۔ نہ کوئی رسید دی۔ وہ کئی ماہ سے رسید کا تقاضا کر رہی تھی۔ لیکن ایجنٹ صاحب انھیں ٹال رہے تھے۔ میں نے ان سے پالیسی کا نمبر لے کر تفصیلات معلوم کی تو پتہ چلا پریمئیم جمع نہیں کرایا گیا۔ یہ کوئی ایک واقعہ نہیں ہے۔ لیکن اصل مسئلہ یہ ہے کہ ایک فرد کے غیر ذمہ دارانہ رویہ سے پوری اانشورنس انڈسٹری بدنام ہوتی ہے۔
انشورنس میں دھوکہ دہی سے زبردست سماجی اور معاشی نقصان ہوتا ہے۔انشورنس میں دھوکہ دہی کے واقعات نئے واقعات نہیں ہیں،تاہم جو بات نئی ہے، وہ ایک ایسی خطرناک شرح ہے جس میں پچھلے چند برسوں میں اضافہ ہوتا جارہا ہے۔ دھوکہ دہی کے یہ واقعات ری انشورنس کے ذریعہ کلائنٹس کے رجسڑیشن سے لے کر مختلف کلیمس کے زمروں کے تحت آتے ہیںجسے بسا اوقات انشورڈ سرمایہ کو عالمی نقصان پہنچا کر تیار کئے گئے ہیں۔ لب لباب یہ کہ دھوکہ دہی کے ان واقعات سے انشورنس کمپنیوں کو کسی دوسری چیز کے مقابلہ میں زیادہ خسارہ ہوتا ہے۔ پاکستان میں اس بارے میں اعداد شمار دستیاب نہیں ہیں ۔ لیکن انڈیا فورنسک نامی پنے کی ایک کمپنی نے ایک ریسرچ کی ہے جس کے مطابق، تمام پلئیروں کے ذریعہ کئے گئے کل خسارہ کو اکھٹا کردیا جائے تو 2011 کے دوران یہ خسارہ 30,401 کروڑ کا ہوا ہے جو کہ انڈسٹری سائز کا تقریباً 9 فیصد ہے۔ آئی آر ڈی اے حقائق سے پتہ چلتا ہے کہ 2011 میں انڈسٹری کے ذریعہ حاصل شدہ پریمیم کا کل مقدار 3.5 لاکھ کروڑ روپئے رہا ہے اور اس کا زبردست خمیازہ لائف انشورنس سیکٹر کو برداشت کرنا پڑا ہے۔ پچھلے 5 برسوں میں اس تناسب میں زبردست اضافہ دیکھا گیا ہے جو کہ لائف انشورنس میں دوگنا اور عام انشورنس میں 70 فیصد اضافہ ہوا ہے۔ 5 سال پہلے لائف انشورنس کمپنیوں کا کل خسارہ 13,148 کروڑ روپئے تھا جبکہ عام انشورنس میں خسارہ 2,140 کروڑ روپئے کا تھا۔
اس میں کوئی شبہ نہیں کہ انشورنس میں دھوکہ دہی کا معاملہ بڑھتا جارہا ہے۔ سروے تحقیقات نے دھوکہ دہی کے 5 اہم واقعات پر سے پردہ اٹھایا ہے۔ عام انشورنس میں دھوکہ دہی کے اکثر واقعات صحت کے ارد گرد گھومتے ہیں۔ 25 فیصد سے زائد صحت انشورنس کی لاگت کا تعلق کلیمز سے ہے۔ مجموعی اعتبار سے انشورنس صنعت عام بدعنوانیوں کی لپیٹ میں ہے جس میں کمیشن میں تخفیف، جعلی میڈیکل ،مالی حیثیت کمزور ہونا، فرضی دستاویزات اور پارٹیوں کے درمیان ساز باز وغیرہ شامل ہیں۔ ایک انشورنس کمپنی کو ہونے والے ہر ایک دھوکہ سے 25,000 سے لے کر 75,000 کا نقصان ہوتا ہے۔اس میں کوئی شبہ نہیں کہ دھوکہ سے انشورنس کمپنیوں پر جو اضافی خرچ ڈال دیا جاتا ہے، اسے عام طور پر پالیسی ہولڈروں کو دے دیا جاتا ہے۔حقیقی اعدادوشمار خواہ کچھ بھی ہوں ، لیکن اس سیکٹر میں سخت مقابلے کی وجہ سے پریمیم کے لئے ہمیشہ دباو رہتا ہے۔ تاہم ان انکشاف کرنے والی ڈیٹا کے باوجود بھی آئی آر ڈی اے کم ازکم ابھی بھی اس معاملہ کو سنجیدگی سے نہیں لے رہا ہے۔
ایک طرف توبھارت میں 40 فیصد آبادی خط افلاس کی سطح سے نیچے زندگی گزار رہی ہے اور جہاں سڑک حادثات سے ملک کو 3 فیصد کے گھریلو مجموعی پیداوار کا نقصان اٹھانا پڑتا ہے تو دوسری طرف اس طرح کے دھوکہ دہی کے واقعات سے نہ صرف یہ کہ معاشی اور سماجی خسارہ میں اضافہ ہوتا ہے بلکہ اس کی وجہ سے بہت سارے لوگ حقیقی کلیمزسے بھی محروم کر دئیے جاتے ہیں۔ انشورنس کمپنیاں اس سلسلے میں مزید قوانیں سازی کرسکتی ہیں۔ جس کی رو سے ڈاکومنٹیشن میں مزید شفافیت اور سادگی آئے۔ علاوہ ازیں، انشورنس کمپنیوں کو بھی چاہئے کہ وہ اس مسئلہ پر قابو پانے کے لئے سرگرم طور پر بدعنوانی مخالف اسٹریٹیجزاور تکنیک اختیار کریں۔اسی کے ساتھ ایس یع سی پی کو چاہئے کہ وہ نظام کو مزید شفاف بنانے کی ہدایت کرے۔ پاکستان میں انشورنس کلیمز کی دھوکہ دہی کو روکنے کے لئے انشورنس کمپنیاں بھی ایک پول بنا کر معلومات کو ایک دوسرے سے شئیر کر کے اس مسئلے پر قابو پاسکتی ہیں۔




No comments:

Post a Comment