March 2011 07:45
نیشنل انشورنس کمپنی کا آڈٹ کرنے والی ٹیم نے سپریم کورٹ آف پاکستان کو بتایا کہ سابق چیئرمین این آئی سی ایل ایاز نیازی اور ان کے ساتھیوں نے 12,487ارب روپے کا خورد برد کیا این آئی سی ایل کی گزشتہ تین سال کی آڈٹ رپورٹ سے بھی ظاہر ہوتا ہے کہ اپنے دوستوں سے غیر قانونی طور پر 5ارب روپے سے زائد کی اراضی کی خریداری کے علاوہ ایاز نیازی نے جائیداد کو کرائے پر نہ چڑھا کر بھی قومی خزانے کو5/ ارب روپے کا نقصان پہنچایا حالانکہ مختلف پارٹیوں نے دبئی آفس کی جگہ کرائے پر حاصل کرنے کیلئے رجوع بھی کیا تھا حکام نے پیپرا کے رول نمبر 7”انٹیگریٹی ایکٹ“ کے تحت جائیداد کے حصول میں بدعنوانی پر 10گنا جرمانہ وصول کرنے کی بھی سفارش کی ہے اور اگر اس قانون پر من و عن عمل کیا جائے تو حکومت کو بدعنوان عناصر سے ان کی بدعنوانی پر اربوں روپے وصول کرنے میں مدد ملے گی یہ بھی معلوم ہواہے کہ این آئی سی ایل کے سابق چیئرمین ایاز نیازی کی تقرری بھی خلاف قانون تھی جبکہ جنرل منیجر ایچ آر ایوب صدیقی احمد بٹ ایگزیکٹو ڈائریکٹر آئی ٹی طارق عزیز جنرل منیجر ایچ آر علی اصغر جنرل منیجر ایڈمن اصغر علی شاد جی ایم فنانس اطہر نقوی اور ڈپٹی منیجر چیئرمین سیکرٹریٹ عبدالرافع مہتہ کی تقرری بھی خلاف ضابطہ پائی گئی آڈٹ رپورٹ میں یہ بھی ظاہر کیا گیا ہے کہ مسٹر نیازی وڑایچ فیملی اور دیگر دوستوں پر کس طرح مہربان تھے نیازی اپنے لئے کرائے پر گھر کے حصول اور اس کی تزئین و آرائش میں بھی بدعنوانی کے مرتکب پائے گئے جائیداد کی خریداری میں کمپنی کو 502,800ملین کا نقصان پہنچایا گیا پیرا قوانین کو پامال کرتے ہوئے زمین کی خریداری سے 1065.300 ملین کا نقصان ہوا زمین کے حصول کی مد میں غیر محفوظ طریقے سے 250ملین کا نقصان ہوا کسی منصوبہ بندی کے بغیر زمین کے حصول سے 192.375ملین کا نقصان ہوا اور 1171,830ملین روپے کے فنڈز پھنس کر رہ گئے آڈٹ رپورٹ کے 36آڈٹ پیپروں میں مختلف طریقوں سے بدعنوانی کی نشاندہی کی گئی ہے
ایم سی بی بینک سری لنکا میں چار نئی برانچز کا اضافہ کرے گا
Written by editor
Tuesday, 22 March 2011 07:38
ایم سی بی بینک (سابقہ مسلم کمرشل بینک) اگلے برس تک سری لنکا میں چار نئی برانچز کا اضافہ کرے گا جبکہ بینک کی چھ برانچز پہلے ہی کام کر رہی ہیں۔ برانچز میں اضافہ کے بعد ایم سی بی سری لنکا کے بڑے غیرملکی بینکوں میں شامل ہوجائے گا۔ میاں منشاء نے سری لنکا کے صدر کو گروپ کے بارے میں بتاتے ہوئے کئی منصوبوں میں سرمایہ کاری کی پیشکش کی۔ انہوں نے کہا کہ نئی برانچز بٹی کالاوٴ کورنیگا اور کولمبو میں قائم کی جائیں گی۔ انہوں نے کہا کہ ان برانچز کے قائم ہونے کے بعد بینک کی سری لنکا میں کل 10 برانچز ہوجائیں گی۔
جسٹس ریٹائرڈ دیدار شاہ کے بطور چیئرمین نیب تقرر ،کالعدم قرار دے دیا
Written by editor
Tuesday, 22 March 2011 07:21
سپریم کورٹ نے جسٹس ریٹائرڈ دیدار شاہ کے بطور چیئرمین نیب تقرر ،کالعدم قرار دئیے جانے کے حکم کا تفصیلی فیصلہ جاری کرتے ہوئے دیدار شاہ کو اس عہدہ کے لئے نااہل قرار دے دیا ہے ، عدالتی فیصلہ میں اس کی ذمہ داری وفاقی وزارت قانون کی نااہلی پر عائد کی گئی ہے ۔ جسٹس جاویداقبال کی سربراہی میں سپریم کورٹ کے تین رکنی بنچ نے چیئرمین نیب کے تقرر کیس کی سماعت مکمل کرکے دس مارچ کو مختصر فیصلہ سنایا تھا جس میں اس تقرری کو کالعدم قرار دیا گیا تھا
Last Updated on Tuesday, 22 March 2011 07:32
پکک انشورنس کے 40/فیصد شیئرز خریدنے میں ایک سرمایہ کار کی دلچسپی
Written by editor
Friday, 18 March 2011 05:28
کراچی(اسٹاف رپورٹر)پکک انشورنس کے 40/ فیصد شےئرز خریدنے میں ایک سرمایہ کار نے دلچسپی ظاہر کی ہے، کراچی اسٹاک ایکسچینج میں جاری نوٹس کے مطابق پکک انشورنس کے 40/ فیصدشےئرز کی خریداری میں غلام محمد اینڈ فیملی نے دلچسپی ظاہر کی ہے۔ نوٹس میں کہا گیا ہے کہ یہ شےئرز پبلک آفرز کے ذریعے خریدیں جائیں گے اور اس کے لیے نیکسٹ کیپٹل کو لیڈ منیجرز مقرر کیا گیا ہے۔
کریڈٹ ہسٹری والے صارفین کیلئے ”یو بی ایل صلہ ملا“ کا آغاز
Written by editor
Friday, 18 March 2011 05:26
کراچی (پ ر) یو بی ایل نے پاکستان میں پہلی بار بہترین کریڈٹ ہسٹری والے صارفین کیلئے ”یو بی ایل صلہ ملا“ کا آغاز کیا ہے۔ اس کا مقصد ایسے صارفین جو کہ قرضوں کی ادائیگی کے حوالے سے بہتر ریکارڈ رکھتے ہیں کو ان کی اس کارکردگی کا اعتراف کرتے ہوئے قرضوں پر مارک اپ میں چھوٹ اور دیگر مراعات دینا ہے۔ یو بی ایل کے گروپ ہیڈ مارکیٹنگ نجیب آگرہ والا کا کہنا ہے کہ پہلے بینک کریڈٹ ہسٹری کو صرف ڈیفالٹس کی نظر سے دیکھتے تھے تاہم اب پہلی بار اس مہم کے ذریعہ کریڈٹ ہسٹری کو مثبت انداز میں دیکھتے ہوئے صارفین کو صلہ دیا جارہا ہے۔
ساڑھے تین کروڑ بوگس ووٹوں سے منتخب ہونےوالی اسمبلی
Written by editor
Tuesday, 15 March 2011 11:34
اسلام آباد…سپریم کورٹ نے ووٹرز لسٹوں سے تقریباً ساڑھے تین کروڑ بوگس ووٹوں کے اخراج کیلئے دائر درخواست پر الیکشن کمیشن سمیت دیگر فریقین کو نوٹس جاری کردیئے ہیں۔ چیف جسٹس افتخارچودھری اور جسٹس غلام ربانی پر مشتمل بنچ نے بوگس ووٹوں کیخلاف دائر درخواست کی ابتدائی سماعت کی ،آئینی پٹیشن میں موقف اختیار کیا گیا ہے کہ الیکشن کمیشن نے ووٹر لسٹوں کو کمپیوٹرائزڈ کرنے کا جو عمل شروع کیا ہے اس میں تین کروڑ78 لاکھ جعلی اور بوگس ووٹوں کی نشاندہی ہوئی ہے۔ درخواست میں ان تمام فرضی ووٹوں کو لسٹوں سے خارج کرنے کی استدعا کی گئی ہے۔ عدالت نے چیف الیکشن کمشنر ، نادرا اور اٹارنی جنرل کو نوٹس جاری کرتے ہوئے ان سے اس پر تفصیلی جواب طلب کرلیاہے۔
Last Updated on Tuesday, 15 March 2011 11:55
نجم الحسن کو لاہور سنٹرل زون کا سربراہ مقرر
Written by editor
Tuesday, 15 March 2011 11:29
اسٹیٹ لائف انشورنس لاہور زون کے سربراہ ممتاز احمد چوہدری کے رٹائر ہونے پر کارپوریشن کی منیجمنیٹ نے جناب نجم الحسن کو لاہور سنٹرل زون کا سربراہ مقرر کیا ہے۔ نجم الحسن اس سے قبل گوجرانوالہ کے زونل ہیڈ تھے۔ چوہدری سرفراز احمد سیکٹر ہیڈ سیالکوٹ زون کو ان کی جگہ گوجرانوالہ زون کا زونل سربراہ مقرر کیا گیا ہے۔ دریں اثنا کارپوریشن کے پرنسپل آفس میں بھی جنرل منیجر شیر علی خان کو لاءڈویژن کا سربراہ، اور یحی چماڈیا کو آفیسیٹنگ جنرل منیجر پی ایچ ایس اور الفا انشورنس کے سی ایف او عطا اللہ رشید کو پی اینڈ جی ایس کا ڈویژنل ہیڈ بنا دیا گیا ہے۔محسن عباس کو پی اینڈ جی ایس میں پی ون کا چارج دیا گیا ہے۔ فیصل تہزیب کو الفا انشورنس کا نیا سی ایف او مقرر کیا گیا ہے۔
اقبال گل نےکراچی سدرن کے زونل ہیڈ کا چارج سنبھال لیا
Written by editor
Tuesday, 15 March 2011 11:23
سٹیٹ لائف مارکیٹنگ کے شعبے میں بڑے پیمانے پر تبدیلوں کا اعلان کیا گیا ہے۔ خالد شیخ کو کراچی سنٹرل زون کا ذونل سربراہ مقرر کیا گیا ہے۔ جبکہ قاضی جاوید کو کراچی سنٹرل میں سیکٹر ہیڈ پوسٹ کیا گیا ہے۔ صغیر عابد رضوی کو زونل سربراہ سکھر، اقبال گل کو زونل سربراہ کراچی ساوتھ زون، سعید خان کو سیکٹر ہیڈ کراچی ساوتھ، عباس رضوی کو سیکٹر ہیڈ کراچی سنٹرل اور ظہور اے بھٹی کو زونل سربراہ میرپورخاص بنا دیا گیا ہے۔ پی اینڈ جی ایس پرنسپل آفس کے ڈویژنل ہیڈ ممتاز علی کھوسو کے جاری کردہ آفس آرڈر کے مطابق اس حکم پر فوری عمل درآمد کیا جائے گا۔
ڈاکٹر شیر شاہ کا ایک اور اعزاز
Written by editor
Thursday, 10 March 2011 03:36
Dr.Shershah syed
پا کستان کے نامور ڈاکٹر شیر شاہ سید کو خواتین کے لئے کام کرنے پربین الاقوامی تنظیم ویمن ڈلیور‘‘ نے عالمی یوم ِ خواتین کے ۱۰۰ سال مکمل ہونے کے مو قع پر پوری دنیا کے ان ۱۰۰ افراد میں شامل کیا ہے جو خواتین کی فلاح و بہبود کے لیے کام کر رہے ہیں۔ ان افراد میں آئر لینڈ کی سابق خاتون صدر میری رابنسن، اردن کی ملکہ رانیہ، ایران کی شیریں عبادی، بھارت کی امرتا سین، بنگلہ دیش کے محمد یونس اور فضل حسن عابد ، امریکا کی ملنڈا گیٹس ، ہلری کلنٹن،اوپراونفرائے اورنکولس کرسٹوف، اقوام متحدہ کے سکریٹری جنرل بانکی مون سمیت متعدد ممتازشخصیات شامل ہیں۔ پاکستان کی دیگر دو شخصیات میں ڈاکٹر نفیس صاڈق اور مسز امتیاز کمال بھی شامل ۔
روشنا ظفر ملکی کی تیسری بڑی مائیکرو فنانس کی بانی
Written by editor
Thursday, 10 March 2011 03:16
Roshaneh Zafar
روشنا ظفر نے پاکستان میں ایک مائیکرو فنانس کی تنظیم کشف فاو ¿نڈیشن کی بنیاد رکھی ہے۔ جو خواتین کو غربت سے باہر نکلنے میں مدد دے گی۔ گرامین بنک کے ڈاکٹر محمد یونس نے ، جو بنگلہ دیش میں دیہی فاو ¿نڈیشن کے اس کام کے لئے بانی اور فاتح تصور کئے جاتے ہیں ۔ جنہیں 1996 ء میں نوبل امن انعام دیا گیا تھا۔ اس این جی او کو کام کرنے کے لئے دس ہزار امریکی ڈالرز سے مدد کی ہے۔ روشنا ظفر جو ممتاز قانون داں ایس ایم ظفر کی صاحبزادی ہیں۔ اس پروگرام کے ذریعہ دو لاکھ خواتین تک رسائی چاہتی ہیں۔ اور انھوں نے اب تک ۳ لاکھ خواتین کو اس پروگرام میں شامل کیا ہے۔ روشنا ظفر نے 1996 میں اس تنظیم کی بنیاد رکھی. انھوں نے ابتدائی چھ ماہ کی محنت سے لون کے حصول کے لئے اپنا کلائینٹ تلاش کیا اور اب انھیں خوتین کا اعتماد حاصل ہے۔ 1999 میں ، کشف فاﺅنڈیشن نے اس علاقے میں سب سے پہلے عورتوں کے لئے قرض کی اسکیم کو متعارف کرایا ہے. 2001 ء میںیہ پہلی مائیکرو فنانس این جی او تھی جسے ملک کی سب سے پرانی انشورنس کمپنیوں میں سے ایک کے ساتھ تعاون حاصل ہوا اور اس کی طرف سے مائیکرو انشورنس کی خدمات کی پیشکش کی گئی 2003 ئ میں اس کے پہلے مائیکرو فنانس مالی پائیدار بننے کے لئے ادارہ تھا. چار سال بعد ، کشف فاو ¿نڈیشن کو امریکہ کے اہم مقامی اور بین الاقوامی بینکوں کے ساتھ کاروباری سودوں میں پیش رفت ہوئی ۔ آج ، یہ پاکستان میں تیسری سب سے بڑی مائیکرو فنانس کی تنظیم ہے ، جو 22 کروڑ ڈالر قرض کی مالیت رکھتی ہے اور اس کی وصولی کی شرح98 فیصد ہے۔ روشناظفر کو ترقی اور خواتین کو بااختیار بنانے کے لئے اس کام پر تمغہ امتیاز ، پاکستان کے سب سے بڑے شہری اعزاز سے نوازا گیا ہے۔ 2007 میں سماجی ادیدوستا کے لئے Skoll ایوارڈ تھا ایوارڈ دیا گیا. ظفر نے 1989 میں پنسلوانیا یونیورسٹی میں ایک Wharton سکول سے انڈر گریجویٹ کی ڈگری حاصل کی ، اور یہ بھی ییل یونیورسٹی سے ترقی معاشیات میں ایک 'ماسٹرز کی ڈگری حاصل.
تحفظ میں فروخت کا فن کتاب پر تبصرہ
Written by editor
Tuesday, 08 March 2011 07:55
اسٹیٹ لائف کےجریدے تحظ کا تازہ شمارہ شائع ہوگیا ہے۔ رنگا رنگ خبروں اور تصاویر سے مزین یہ جریدے تقریبا 43 برسوں سے مسلسل اشاعت پزیر ہے۔ اسٹیٹ لائف انشورنس کی تشکیل کے موقع پر اسپاٹ لائٹ کے نام سے شائع ہونے والا یہ جریدہ اسٹیٹ لائف کے فیلڈ ورکرز کا نمائیندہ ہونے کی حیثیت سے ممتاز مقام رکھتا ہے۔جریدہ کے تازہ شمارے میں ممتاز کالم نگار اور اسٹیٹ لائف کے اسسٹنٹ جنرل منیجر عطا محمد تبسم ی کتاب فروخت کے فن پر تبصرہ شائع ہوا ہے۔ کتاب کی قیمت 150 روپے ہے اور اسے درج ذیل پتے سے منگوایا جاسکتا ہے۔ اسسٹنٹ جنرل منیجر پی اینڈ جی ایس ساوتھ ریجن اسٹیٹ لائف بلڈنگ نمبر 2 ویلیس روڈ کراچی فون نمبر 99217033
Last Updated on Thursday, 10 March 2011 03:29
قطر فیملی تکافل کی ریجنل سیلز کانفرینس
Written by editor
Tuesday, 08 March 2011 05:33
۔قطر فیمیلی تکافل کی ریجنل سیلز کانفرینس کے موقع پر مینجنگ ڈائریکٹر، عصمت اللہ تونیو کو بہترین کارکردگی پر ٹرافی دے رہے ہیں۔ اس موقع پر شہزاد واسطی بھی موجود ہیں
Last Updated on Wednesday, 09 March 2011 10:06
اپنے استنبول میں
Written by editor
Tuesday, 08 March 2011 05:15
اپنے استنبول میں ڈاکٹر غلام جعفر کا دوسرا سفرنامہ ہے۔ اس سے پہلے ان کا سفر نامہ دریا سے صحرا تک شائع ہوچکا ہے۔ ڈاکٹر جعفر حسین کا قلمی نام ڈاکٹر غلام جعفر مبارک ہے۔ وہ ای ایف یو جنرل انشورنس کے وائس پریزیڈینٹ اور سٹی برانچ فیصل آباد کے برانچ ہیڈ ہیں۔ وہ فیصل آباد کی ادبی وتعلیمی شخصیت کے طور پر پہچانے جاتے ہیں۔ سفر ناموں کے حوالے سے بھی ان کا شمار اردو ادب کے مستند ادیبوں میں کیا جاتا ہے۔ جی سی یونیورسٹی فیصل آباد کے شعبہ اردو کے ڈاکٹر شبیر احمد قادری نے کتاب کے فیلپ پر تحریر کیا ہے کہ ڈاکٹر غلام جعفر مبارک پھولوں کی ہمہ جہت قسموںکو جمع کرنے اور اپنے ویژن کے مطابق انھیں صفحہ قرطاس پر بکھرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ اس کتاب کے فیلپ پر ای ایف یو کے ڈپٹی مینجنگ ڈائریکٹر نارتھ زون قمر حامد نے بھی اپنے تاثرات رقم کئے ہیں۔ انھوں نے لکھا ہے کہ مصنف نے ہمارے ترکی سے برادرانہ تاریخی، سیاسی ، سماجی ، آرٹ،مذھب سے بندھے ہوئے تعلقات ہیں۔ انھوں نے مصنف کی تحریر کی خدا داد صلاحیتوں کی تعریف کی ہے۔
پی آئی اے کے مسافروں کو انشورنس کوریج کی مکمل سہولت ہے
Written by editor
Wednesday, 15 December 2010 04:32
پی آئی اے ترجمان نے کہا کہ قومی اےئرلائن کے مسافر جو کہ بیرون ملک سے پاکستان اور اندورن ملک کسی بھی مقام کے لئے سفر کر رہے ہوں ، ان کو آپشنل مکمل لائف انشورنس کوریج مہیا کی جا رہی ہے۔ اس اسکیم کے تحت پی آئی اے کے وہ مسافر جو کہ کسی بھی غیرملک سے پاکستان کا سفر کررہے ہوں وہ پاکستان میں اپنے مکمل قیام کے دوران صرف 10 امریکن ڈالر یا اس کے مساوی مقامی کرنسی ادا کر کے 10 ملین روپے کا انشورنس کور حاصل کرسکتے ہیں۔یہ اسکیم اندرون ملک سفر کرنے والے مسافروں کیلئے بھی دستیاب ہے۔
Last Updated on Thursday, 30 December 2010 09:34
نوجوانوں کوجدید شعبوں میں تربیت کی فراہمی کے لیے بینکنگ، انشورنس اور ٹیکسیشن کے شعبوں کا انتخاب
Written by editor
Saturday, 05 March 2011 07:23
صوبائی وزیر امور نوجوانان سندھ سید فیصل علی سبزواری نے کہا ہے کہ محکمے نے نوجوانوں کوجدید شعبوں میں تربیت کی فراہمی کے لیے بینکنگ، انشورنس اور ٹیکسیشن کے شعبوں کا انتخاب کیا ہے، جن سے انہیں روزگار ملنے کے بہت زیادہ مواقع میسرآئیں گے اور وہ معاشرے کے کامیاب فرد کے طور پر سامنے آئیں گے۔ یہ بات انہوں نے بدھ کو محکمہ امور نوجوانان سندھ کی جانب سے بے نظیر بھٹو شہید یوتھ ڈیولپمنٹ پروگرام میں پانچ ماہ کی بینکنگ سیکٹر ٹریننگ پروگرام کی گریجویشن کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہی۔
اس موقع پر سیکرٹری یوتھ افیئرز سندھ شعیب احمد صدیقی، خورشید علی شیخ، کریم بخش صدیقی، نذیر احمد شیخ اور دیگر افسران بھی موجود تھے۔ انہوں نے کہا کہ اس قسم کی ٹریننگ کا بنیادی مقصد نوجوانوں میں بڑھتی ہوئی مایوسی، ذہنی دباؤ اور احساس محرومی کوکم کرنا ہے۔ اس طرح نوجوانوں کومکمل میرٹ کی بنیاد پر اپنی صلاحیتوں کے اظہارکا موقع مل سکے گا اور وہ ملکی ترقی میں اپنا مثبت کردار ادا کرسکیں گے۔
صوبائی وزیر نے کہا کہ آج کا نوجوان بہت باخبر اور باشعور ہے۔ وہ ملکی اور بین الاقوامی امور اور تبدیلیوں سے آشنا ہے۔ وہ معاشرے کی خوبیوں اور خامیوں سے بخوبی آگاہ ہے اور ان میں بہتری کا خواہاں ہے۔ شعیب احمد صدیقی نے کہا کہ نوجوانوں کے مسائل کو حل کرنے کے لیے محکمہ امور نوجوانان نے متعدد جامع منصوبے ترتیب دیے ہیں۔
قطر میں امانہ برانچ نے پہلی بار تکافل انشورنس کا آغاز کردیا
Written by editor
Saturday, 05 March 2011 07:12
قطر میں امانہ برانچ نے پہلی بار تکافل انشورنس کا آغاز کردیا ہے۔ایچ اے بی سی اور الائنز تکافل نے پارٹنرشپ میں کام کا آغاز کیا ہے۔جاوید اخترسنئیر ایریا سیلز منئیجر نے کہا ہے کہ ہم اپنے کلائینت کو بہتر سروس فراہم کرنا چاہتے ہیں۔ ہمیں امید ہے کہ اس معاہدے سے ہم اپنے صارفین کی ضرورتوں کو پورا کرسکیں گے۔ ہمارے پلان ڈالرز اور قطر ریل میں دستیاب ہوں گے، اس موقع پر الائینز تکافل کے چئیرمین عبدالراحمان خلیل تولیفات نے کہا کہ ایچ اے بی سی عالمی بنیادوں پر مستحکم ادارہ ہے۔ اور اس پارٹنر شپ سے شریعت کے مطابق لوگوں کو انشورنس سہولتیں حاصل ہوں گی۔
کامران شمسی زونل سربراہ بھاولپور زون
Written by editor
Thursday, 03 March 2011 10:22
کامران شمسی، شمس تبریز اور اولیاءکی سرزمین ملتان میں پیدا ہوئے۔ اس مٹی نے مختلف شعبوں میں اپنی مہارت و صلاحیتوں کو منوانے والے ان گنت لوگوں کو جنم دیا ہے۔خوش اخلاق،اعلی تعلیم یافتہ، تہزیب وتمدن سے آراستہ اور شاعری کے دلدادہ کامران شمسی کا شمار بھی ان ہی لوگوں میں ہوتا ہے۔ کامران شمسی اسٹیٹ لائف انشورنس بھاولپور زون کے سربراہ ہیں۔ اعلی متظم صلاحیتوں سے آراستہ کامران شمسی کامیاب مارکیٹنگ کے ہنر جانتے ہیں۔ اپنی تعلیمی سرگرمیوں کے بارے میں انھوں نے بتایا کہ ان کے والد درس و تدریس کے شعبے سے وابستہ تھے۔ اس لیئے گھر کا ماحول بھی تعلیمی اور ادبی تھا،اسی ماحول اور تربیت کا اثر تھا کہ میں نے گورنمنٹ ہائی اسکول سے میٹرک فرسٹ کلاس میں پاس کیا۔ اپنے
گزرے ماہ و سال کی یادوں سے کھیلتے ہوئے انہوں نے بتایاکہ ،، میں ایف اے کررہا تھا۔ میرے بڑے بھائی ایم بی اے کررہے تھے۔ اسی دوران والد صاحب کا انتقال ہوگیا، جس کی وجہ سے گھر کے معاشی حالات خراب ہوگئے۔ اور ہم دونوں بھائیوں کا بیک وقت تعلیم جاری رکھنا مشکل ہوگیا۔تو میں نے بھائی جان سے کہا کہ آپ اپنی تعلیم جاری رکھو اور ایم بی اے مکمل کرو۔ میں تعلیم چھوڑ کر نوکری کرتا ہوں۔بھائی نے اس کی مخالفت کی لیکن میں نے ایک دوا ساز ادارے کو جوائن کرلیا۔یہ 1983 کی بات ہے کہ میری ملاقات شیخ مشتاق احمد سے ہوئی۔ جو اسٹیٹ لائف سے وابستہ تھے۔ ان کا طرز زندگی اور خوش لباسی دیکھ کر میں نے اسٹیٹ لائف جوائن کرنے کا فیصلہ کیا۔ بڑے بھائی نے اس وقت مجھے کہا کہ فاما کے شعبے میں تم آگے تک جاسکتے ہو۔ یہ کس چکر میں پڑ گئے ہو۔ لیکن میں نے اپنا یہ سفر جاری رکھا۔ 1983 میں ، میں سیلز آفیسر بن گیا۔جس کے بعد 1985 میں سیلز منیجر کا پرموشن ہوا۔ اس وقت فارما کی جانب سے میری تنخواہ دس ہزار روپے تھی۔ مگر مجھے اپنے دونوں ہاتھوں پر سے کسی ایک ہاتھ پر گھڑی باندھنی تھی۔ سو میں نے فاما کی نوکری چھوڑ کر اسٹیٹ لائف میں فل ٹائم جوائن کرنے کا فیصلہ کیا۔میری محنت اورخدا کے کرم سے میرا فیصلہ درست ثابت ہوا۔1989 میں میرا پرموشن ایریا منیجر کی حیثیت سے ہوا۔ میری ٹیم سے 13 ایریا منیجر اسٹیٹ لائف کو ملے۔ زونل ہیڈ ڈیرہ اسماعیل خان ملک مختیار احمد بھی میری ٹیم کے ممبر رہ چکے ہیں۔ 1995میں مارکیٹنگ مینیجر اور 2001 میں سیکٹر ہیڈ کی حیثیت سے میری پوسٹنگ صادق آباد ہوگئی۔ 2008 میں اسسٹنٹ جنرل منیجر کا پرموشن ہوا۔ پھر مجھے ریجنل کوارڈینٹر ملتان ریجن کی ذمہ داری ملی، جس کے بعد 2009 میں زونل ہیڈ بھاولپور بنا دیا گیا۔ اپنے زون کی کارکردگی کا ذکر کرتے ہوئے انھوں نے بتایا کہ بھاولپور زون کی تاریخ زیادہ پرانی نہیں ہے۔ ایک چھوٹے اور کم آبادی والے شہر اور ضلع کے زون بھاولپور زون نے چھا لیس کروڑ روپے کا پریمئیم کیا ہے۔اس اچھی کارکردگی پر زون کے تمام لوگ قابل تعریف ہیں۔گذشتہ سال بھاولپور نے تیسری پوزیشن اور 2009 کل پاکستان بنیاد پر چھٹی پوزیشن حاصل کی ہے۔ میرے اس سوال پر کہ انشورنس کی فیلڈ کوایک مشکل فیلڈ کہا جاتا ہے۔کیا کبھی کوئی ایسا لمحہ آیا جب دل ٹوٹا ہو اور واپس پلٹ جانے کا خیال آیا ہو۔ میرے سوال پر کامران ایک گہری سوچ میں ڈوب گئے۔ وہ پرانی یادوں میں ڈوب گئے۔ پھر بولے ،، جب میں نے اسٹیٹ لائف کو جوائن کیا تو میرے ایک جاننے والے کا میڈیکل اسٹور جتوئی شہر میں تھا۔ انھوں نے ایک ملاقات میں کہا کہ آپ جتوئی شہر آﺅ میں انشورنس پالیسی کی فروخت میں آپ کی مدد کروں گا۔ میں نے اپنے دوستوں سے ذکر کیا ہے وہ بیمہ پالیسی لینے پر رضامند ہیں۔ ان کی اس دعوت پر میں ملتان سے ایک سو کلو میٹر کا فاصلہ طے کرکے جتوئی شہر پہنچا۔ان سے ملاقات ہوئی تو انھوں نے کہا کہ میں نے اپنے دوستوں سے اس کا ذکر کیا ہے۔ جب کوئی پیش رفت ہوگی تو میں آپ کو بتادوں گا۔ملتان واپس آکر میں شدید مایوسی اورناامیدی کا شکار ہوا۔ اور دل چاہا کہ اسٹیٹ لائف چھوڑ دوں۔ ایک دن میں چوک گھنٹہ گھر پر ایک ہوٹل میں دوستوں کے ساتھ بیٹھا ہوا تھا۔کہ میرے والد کے ایک واقف کار صراف مجھے ملے۔ حال احوال کے بعد انھوں نے پوچھا کیا کر رہے ہو۔میں نے اسٹیٹ لائف کا بتایا تو انھوں نے مجھ سے کہا کہ میری اور میرے بچے کی پالیسی بنادو۔ یہ وہ لمحہ تھا جس نے مجھے ہمت اور طاقت عطا کی۔ یہ سچ ہے کہ محنت رائیگاں نہیں جاتی، اللہ کا شکر ہے کہ آج میں اسٹیٹ لائف کی بدولت ایک اچھی اور آسودہ زندگی گزار رہا ہوں۔ اپنے دیگر مشاغل کا ذکر کرتے ہوئے انھوں نے بتایا کہ مجھے پرانے سکے جمع کرنے کا شوق ہے۔ میرے پاس محمد بن قاسم کے عہد کے سکے بھی جمع تھے۔ نادر اور نایاب سکوں کا ایک اچھا ذخیرہ میرے پاس تھا۔ جو بدقسمتی سے چوری ہوگئے۔ جس کا مجھے افسوس ہے۔ اس کے علاوہ لکھنے پڑھنے کا شوق ہے، اچھی کتابیں اور سوانح شوق سے پڑھتا ہوں۔ شعرو شاعری سے بھی شغف ہے۔
Last Updated on Monday, 07 March 2011 09:10
خالد شیخ زونل سربرہ کراچی سنٹرل اور اقبال گل ساوتھ کے زونل ہیڈ ہوگئے۔
Written by editor
Thursday, 03 March 2011 05:52
اسٹیٹ لائف مارکیٹنگ کے شعبے میں بڑے پیمانے پر تبدیلوں کا اعلان کیا گیا ہے۔ خالد شیخ کو کراچی سنٹرل زون کا ذونل سربراہ مقرر کیا گیا ہے۔ جبکہ قاضی جاوید کو کراچی سنٹرل میں سیکٹر ہیڈ پوسٹ کیا گیا ہے۔ صغیر عابد رضوی کو زونل سربراہ سکھر، اقبال گل کو زونل سربراہ کراچی ساوتھ زون، سعید خان کو سیکٹر ہیڈ کراچی ساوتھ، عباس رضوی کو سیکٹر ہیڈ کراچی ایسٹرن اور ظہور اے بھٹی کو زونل سربراہ میرپورخاص بنا دیا گیا ہے۔ پی اینڈ جی ایس پرنسپل آفس کے ڈویژنل ہیڈ ممتاز علی کھوسو کے جاری کردہ آفس آرڈر کے مطابق اس حکم پر فوری عمل درآمد کیا جائے گا۔
Last Updated on Saturday, 05 March 2011 08:08
اشفاق احمد چوہدری
Written by editor
Tuesday, 01 March 2011 08:41
میری زندگی میں جو تبدیلی آئی ہے۔ وہ مسلسل محنت، ایمانداری کے سبب ہے۔ جس پر میں اللہ کا شکر ادا کرتا ہوں۔جب میری بیٹیاں چھوٹی تھیں، تو وہ آئس کریم کی فرمائش کرتی تھیں۔ میں انھیں قلفی والے کے پاس لے جاتا تھا۔ اور انھیں قلفیاں دلاتے ہوئے کہتا تھا کہ آئس کریم سے گلہ خراب ہوتا ہے۔ لیکن اصل بات یہ تھی کہ قلفی ایک روپے کی ملتی تھی۔ اور آئس کریم کی قیمت زیادہ تھی۔ میں آئس کریم خریدنے کی سکت نہیں رکھتا تھا۔ لیکن آج میری بیٹیاں جو مانگتی ہیں ۔ میں انھیں مہیا کرتا ہوں۔ وہ اعلی تعلیمی اداروں میں تعلیم حاصل کررہی ہیں۔اچھے سے اچھے ریسٹورینٹ اور ہوٹل میں ہم جاتے ہیں۔ یہ سب کچھ اسٹیٹ لائف کی بدولت ہے۔ اسٹیٹ لائف نہ ہوتی تو اشفاق قلفی پر ہی رہتا۔،، میرے سامنے بہترین سوٹ میں ملبوس اشفاق احمد چوہدری بیٹھے تھے۔ ہنس مکھ، ملنسار، اور سلیقہ شعار اشفاق سے میرا تعارف سیکٹر ہیڈ عبدالرزاق شاہد نے کرایا تھا۔ آج لاہور کا موسم بارش کے بعد خوشگوار ہوچلا تھا۔ غازی علم الدین شہید روڈ پر اسٹیٹ لائف لاہور زون کی عمارت کے عقب میں دفترمیں لوڈ شیڈنگ کے باعث اندھیرا تھا۔سیلز منیجر محمد شفیق بھلر میرے استقبال کے لئے موجود تھے۔ تھوڑی دیر بعد گفتگو کا سلسلہ دوبارہ شروع ہوا تو، اشفاق احمد نے بتایا کہ اس سال لاہور میں انھوں نے تین کروڑ اکتیس لاکھ پریمئیم کرکے پہلی پوزیشن حا صل کی ہے۔ سال گذشتہ انھوں نے سوا دو کروڑ پریمیئم کیا تھا۔ اپنے بارے میں انھوں نے بتایا ،، میری پیدائش بورے والا ڈسٹرکٹ وہاڑی کی ہے۔ ابتدائی تعلیم بورے والا میں حاصل کی میٹرک کے بعد ایف اے لاہور سے کیا۔،، انشورنس میں میرے بھائی چوہدری عبدالرزاق (سیکٹر ہیڈ ) پہلے سے تھے۔ 1993 میں ، کام شروع کیا۔ ان کی پرموشن سلیز آفیسر کی ہوئی تو انھوں نے مجھے ریکروٹ کیا۔ کام سکھایا۔کچھ عرصے بعد ہم دونوں بھائی سیلز آفیسر تھے۔پھر وہ سیلز منیجر اور میں ان کے ساتھ ایس او رہا۔ پھر پانچ سال ہم دونوں ایریا منیجر رہے۔ پھر ایریا منیجر ہوا تو میں پانچ سال تک اپنے زون میں ٹاپ بزنس کرتا رہا۔ انھوں نے بتایا کہ میرے بڑے بھائی عبدالرزاق چوہدری جو آج کل سیالکوٹ میں سیکٹر ہیڈ ہیں۔ میری ترقی میں ان کا بہت بڑا ہاتھ ہے۔ اپنے ساتھیوں کے بارے میں انھوں نے بتایا کہ اس سال ان کے ایریا سے تین ایریا منیجر ز کی پرموشن متوقع ہے۔ ان میںمحمد شفیق بھلر، محمد قیوم کبوہ، حلیم احمد آصف، چوہدری وارث علی( جنہوں نے سوا دو کروڑ بزنس کیا ہے )شا مل ہیں۔ سیلز منیجر میں علی حسنین، عنصر خان، چوہدری محمد یوسف، لیاقت وسیم ، سیدہ عذرا تحسین اچھا کام کررہے ہیں۔ ان کے پاس 350 سیلز نمائندوں کی ٹیم ہے۔ جس میں سے سو سیلز نمائندے دسمبر میں بھرتی کیئے ہیں۔ پنجاب میں بزنس بڑھنے کی وجوہات بیان کرتے ہوئے انھوں نے بتیا کہ اسٹیٹ لائف کے کلیمز ادا کرنے سے لوگوں کے اعتماد میں اضافہ ہوا ہے۔ غیر یقینی حالات کی وجہ سے لوگ پروٹیکشن لینا ضروری سمجھتے ہیں۔پالیسی ہولڈر کی سروس بھی بہتر ہوئی ہے۔ انھوں نے بتایا کہ اب لائف انشورنس کیئریر کی جانب پڑھے لکھے لوگ آنا شروع ہوئے ہیں۔ پہلے لوگوں کو یقین نہین تھا۔ لیکن اب جب وہ دیکھتے ہیں کہ اس کیئریر میں کار بنگلہ اور ترقی ہے تو وہ اس جانب آرہے ہیں۔ اس کیئریر کی مثال میں خود ہوں۔ میں نے پیدل سفرکیا، پھر گاڑی لی،گھر لیا، یہ سب تبدیلیاں لوگ دیکھتے ہیں۔اب سیلز آفیسرز، سیلز منیجر کے پاس اچھی گاڑیاں ہیں۔اچھے آفس ہیں۔ اپنی کامیابی کے بارے میں ان کا کہنا ہے کہ میرا یقین اس بات پر ہے ،با ادب با نصیب۔ بے ادب بدنصیب ،میں نے ہمشہ اپنے سنئیر کا احترام کیا۔ ان کی ہدایت پر عمل کیا، ماں باپ کی دعائیں لیں۔ اب ہمارے جونئیر بھی ہمارے ساتھ ایسا ہی برتاﺅ کرتے ہیں۔ انھوں نے بتایا کہ اس کام میں موٹیویشن بہت ہے۔ کمیشن کے چیک آتے ہیِں۔ میڈیکل کی سہولیات ہیں۔ اشفاق احمد چوہدری کی چار بیٹیاں ہیں۔جو تعلیم حاصل کر رہی ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ اس پروفیشن میں عزت دولت شہرت سب کچھ ملا۔ میں نے آٹھ ، نو بار بھوربن کنونشن کوالیفائی کیا۔ میرے بچے اپنے ساتھیوں کو فخر سے بتاتے ہیں کہ ہما رے پاپا اسٹیٹ لائف میں ایگزیکیٹو ہیں
Last Updated on Tuesday, 15 March 2011 12:53
ایریا منیجر سید ابرار حسین کی سالانہ تقریب
Written by editor
Tuesday, 01 March 2011 06:40
اسٹیٹ لائف اپنے کارکنوں کو شاندار مستقبل کی ضمانت فراہم کرتی ہے۔ ایریا منیجر سید ابرار حسین اپنے کارکنوں کے لئے ایک رول ماڈل ہیں۔ اگر اس ایریا آفس نے فروری کے ماہ میں تیس لاکھ سال اول پریمئیم کرلیا تو انھیں پی سی ہوٹل میں ہائی ٹی پر مدعو کیا جائے گا۔ اس بات کا اعلان ریجنل چیف ساوتھ ایس ایچ رضا نے ایریا منیجر سید ابرار حسین کی سالانہ میٹنگ کے موقع پر ہوٹل مہران میں کیا۔ تقریب میں کراچی ساوتھ زون کے سربراہ عباس رضوی نے بھی خطاب کیا۔ اس موقع پر سیلز مینجر جمال ہاشمی،صدرالزماں صدیقی،غضنفر علی قادری،مظہر بٹ اور رانا جمیل نے بھی تقریر کی۔تقریب میں بہترین کارکردگی پر سیلز آفیسر آفتاب احمد، تسلیم قریشی،اقبال، زرین ناز،ثمینہ خان،دھام جی، کریم طارق حسین،زرینہ اسلام کو انعامات دئے گئے۔
No comments:
Post a Comment