Tuesday, June 8, 2010

اسٹیٹ لائف انتظامیہ کے تحفظات کے باوجود 2 ارب 80 کروڑ روپے کی عمارت خریدنے کی تیاریاں مکمل

اسلام آباد(عثمان منظور)اسٹیٹ لائف انشورنش کارپوریشن آف پاکستان کی انتظامیہ کے تحفظات کے باوجود 2 ارب 80 کروڑ روپے کی لاگت سے کراچی میں مشکوک24 منزلہ عمارت کی خریداری کیلئے تمام تیاریاں مکمل کرلی گئیں ہیں اسٹیٹ لائف سنٹر پوائنٹ نامی جس عمارت کو جس بلڈر سے خریدنے جارہی ہے وہ اس کی ملکیت نہیں اور اسٹیٹ لائف کے بورڈ آف ڈائریکٹر ز اس عمارت کی خریداری کی منظوری اپنے آئندہ ہونے والے اجلاس میں دینگے بورڈ آف ڈائریکٹرز کا اجلاس جو 7 جون کو ہونا تھا اسے بعض وجوہات کی بناء پر ملتوی کردیاگیا ہے اسٹیٹ لائف کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر محمد یحییٰ نے اس مشکوک معاہدے پر دستخط کرنے سے انکار کیا تھا اور اپنے اختلافی نوٹ میں کہاتھا کہ یہ شفاف نہیں ہے جب دی نیوز نے چیئرمین اسٹیٹ لائف سے اس سلسلے میں تبصرہ کرنے کیلئے رابطہ کیا تو وہ دستیاب نہیں تھے تاہم جب جنرل منیجر اسٹیٹ لائف سے رابطہ کیاگیاتو ان کا کہنا تھا کہ یہ معاملہ بورڈآف ڈائریکٹرز کے پاس منظوری کیلئے زیرغور ہے جب ان سے محمدیحییٰ کے اختلافی نوٹ کے بارے میں پوچھا گیا توانہوں نے کہاکہ اس کی منظوری کا انحصار بورڈ آف ڈائریکٹر پر ہے جن کے پاس یہ معاملہ زیر غور ہے بورڈ آف ڈائریکٹرز کے 19 اپریل 2010 ء کو منعقد ہونیوالے 211 ویں اجلاس کی عملدرآمدی رپورٹ کے مطابق اسلم فاروقی ‘ اے وہاب مہدی اور مسز سپینٹا کانڈا والا کی یہ رائے تھی کہ اسٹیٹ لائف کو سنٹر پوائنٹ پراجیکٹ کیلئے 2 ارب75 کروڑ روپے کی پیشکش کرنی چاہیے جبکہ ٹی پی ایل پراپرٹیز پرائیویٹ لمیٹیڈ کے علی جمیل نے 2 ارب 85 کروڑ روپے پر زور دیا تاہم چیئرمین نے اس سلسلے میں ڈیڈ لاک کو ختم کرتے ہوئے 2 ارب 80 کروڑ روپے کی پیشکش کی بات کی جس پر تمام متعلقہ لوگ متفق ہوگئے رپورٹ میں محمدیحییٰ کا اختلافی نوٹ بھی شامل ہے جس میں انہوں نے کہاکہ وہ ایگزیکٹو ڈائریکٹر (آر ای) کی حیثیت سے انہوں نے ٹی پی ایل پراپرٹیز پرائیویٹ لمیٹیڈ کے ساتھ مشترکہ سرمایہ کاری کے تمام مراحل کا جائزہ لیا ہے اور ان میں بعض سنگین نقائص ہیں اور اس بات کا امکان ہے کہ ہم سنگین آڈٹ اعتراضات کی زد میں آئیں مزید براں اس پراسس کے بارے میں شفافیت کا سوال بھی اٹھایا جاسکتاہے ان کی اس سلسلے میں تشویش کے بعض نکات درج ہیں ۔(1)میسرز اوشیانک سروئیرزپرائیویٹ لمیٹیڈ کی جانب سے جو ویلیوایشن کی گئی ہے اس کی سپورٹ میں کوئی دستاویزی شواہد نہیں ہیں بظاہر ویلیو بہت زیادہ ہے ‘ اراضی اور بی او کیو کی لاگت کا کوئی حوالہ نہیں۔ (2)ویلیوکا تعین کرنے والوں نے آئی آئی چندریگر روڈ‘ شارع فیصل اور کلفٹن میں جائیدادوں کی قیمتوں پر انحصار کیا ہے جبکہ مذکورہ علاقوں کی جائیدادیں سنٹر پوائنٹ کے مقابلے میں زیادہ حیثیت کی حامل ہیں ۔ (3) بلڈنگ میں نصب ایلیوئیٹرزکو جنریشن پلانٹ اور ایئرکنڈیشن پلانٹ سمیت دیگراشیاء کی قیمت کا تعین نہیں کیاگیا ۔ (4 ) ایک اور اہم معاملہ جسے بورڈ آف ڈائریکٹرز کے سامنے لانا ضروری ہے وہ یہ ہے کہ میسرز ٹی پی ایل پراپرٹیزپرائیویٹ لمیٹیڈ نے کارپٹ ایریا کو بڑھائے بغیر قابل فروخت علاقے کو ایک لاکھ 61 ہزار 7 سو 22 مربع فٹ سے ایک لاکھ 96 ہزار 6 سو 18 مربع فٹ تک بڑھایا ہے (5 ) ایک اورمعاملہ یہ ہے کہ جب اسٹیٹ لائف اس عمارت کی خریداری کے بارے میں غور کررہی تھی کہ میسرز ٹی پی ایل پراپرٹیز پرائیویٹ لمیٹیڈ میں شروع دن سے یونی لیور پاکستان کے ذریعے سے یقینی آمدنی کے بارے میں یقین دہانی کرائی تھی اب وہ بات نہیں ہے ۔(6 ) معاہدے میں یہ شق ہونی چاہیے تھی کہ غلط بیانی یا کسی حقیقت کو چھپانے کی صورت میں معاہدہ دستخط ہونے سے پہلے ہی غیر قانونی تصور کیاجائیگا ۔(7 ) اسٹیٹ لائف کا کام لاگت پرکوئی کنٹرول نہیں ہوگا اس لئے یہ تجویز دی جاتی ہے کہ اسٹیٹ لائف کے ساتھ ہونے والے معاہدے کے نتیجے میں تمام اخراجات کی تصدیق پراجیکٹ منیجر کریگا جس کی تعیناتی اسٹیٹ لائف کریگا اور ٹھیکیداروں کو ادائیگی سے قبل بی او کیو ان کی جانچ پڑتال کریگا۔ (8 ) ٹی پی ایل پراپرٹیز پرائیویٹ لمیٹیڈ کے اکاؤنٹس کی آڈٹ کی نقول کو ریکارڈ پر آنا چاہیے۔(9 ) معاہدے سے قبل جائیداد کے حوالے سے کسی بھی قسم کی رکاوٹ نہیں ہونی چاہیے ۔(10 ) معاہدے سے دستخط ہونے سے قبل جائیداد کی اے اینڈ اے ایسوسی ایٹس سے ٹی پی ایل پراپرٹیز پرائیویٹ لمیٹیڈ کومنتقلی کا عمل مکمل ہوناچاہیے ۔(11 )اسٹیٹ لائف کی جانب سے جس دستاویز پر دستخط ہوئے ہیں اس پر دستخط ہونے سے قبل اسٹیٹ لائف کے لیگل افئیر ڈویژن اور لیگل کسلٹنٹ سے کلیئر ہونا چاہیے ۔(12 ) کسی بھی ادائیگی سے قبل جوائنٹ وینچر کمپنی کو اسٹاک ایکس چینج میں رجسٹرڈ ہوناچاہیے ۔ذرائع نے بتایا کہ جوائنٹ وینچرکمپنی سے متعلق فیصلوں کا نہ صرف براہ راست جائزہ لیاگیا اور نہ ہی صحیح معنوں میں غور کیاگیا ان تحفظات کی روشنی میں میں ایگزیکٹو ڈائریکٹر کی حیثیت سے اس سلسلے میں کسی بھی معاہدے پر دستخط کرنے سے معذور ہوں۔







No comments:

Post a Comment