Sunday, April 18, 2010

پیراماونٹ مضاربہ کے زیر اہتمام عمر مصظفی انصاری کی کتاب کی تقریب رونمائی

پیراماونٹ مضاربہ کے زیر اہتمام ایک سیمینار منعقد ہوا۔ جس میں کثیر تعداد میں اہل علم نے شرکت کی ۔تقریب سے چیرمین مضاربہ ایسوسی ایشن شعیب اور رجسڑار چوہدری شبیر نے خطاب کیا۔ انھوں نے پیراماونٹ مضاربہ ایسوسی ایشن کی انتظامیہ کی تعریف کرتے ہوئے کہا کہ یہ ادارہ بہت اچھے طریقے پر کاروباری سوجھ بوجھ کا مظاہرہ کرتے ہوئے اپنے شیئر ہولڈر کو مسلسل منافع دے رہا ہے۔انھوں نے کہا کہ ۸۰۰۲ دنیا بھر میں معاشی تباہی کا سال تھا، لیکن اب صورتحال تبدیل ہورہی ہے۔انھوں نے کہا کہ دنیا میں ۰۰۳ سے زائد ادارے ہیں جو اس وقت اسلامی طرزپر کام کررہے ہیں۔انھوں نے کہا کہ مضاربہ ایسوسی ایشن کو ریسرچ کا ادارہ بنانا چاہئے۔اس موقع پر عمر مصطفے انصاری کی کتاب اسلامی مائیکرو فنانس ایک لائحہ عمل کی تقریب رونمائی بھی کی گئی، عمر مصطفی انصاری نے کہا کہ یہ ایک چھوٹی سی کوشس ہے جس میں اسلامی بنکاری اور اسلامی نظام معیشت کو کس طرح نافد کیا جاسکتا ہے،کا ایک خاکہ پیش کیا گیا ہے۔اس وقت اسلامی نظام بنکاری ۵ فیصد سے زائد نہیں ہے۔اس موقع پر انوار مینائی ہیڈ اسلامک بنکنگ فیصل بنک نے کہا کہ اسلامی معاشرے مین ہر شخص کو اپنے پیروں پر کھڑا ہونا چاہئے۔انھوں نے کہا کہ عمر مصطفی انصاری کی کتاب ایک ابتدا ہے جو آگے بڑھنے میں مدد دے گی۔انھوں نے اپنے خاکہ کو کتابی شکل دے دی ہے۔رہنما اصول تحریر کردئے ہیں۔محمود شفقت سینئر جوائنٹ ڈائریکٹر اسٹیٹ بنک نے کہا کہ یہ کتاب معاشرے کی اہم ضرورت ہے، مائکروفنانس بنک جو کام کررہے ہیں، اس میں لوگوں کی مدد کرنی چاہئے۔اس موقع پر میاں تنویر احمد مگوں نے کہا کہ ۹۹۹۱میں یہ کام شروع ہوا تھا اور پیراماونٹ مضاربہ نے ۱۱ سال تک اپنے شئیرہولڈر کو ۰۱ سے ۵۱ فیصد تک منافع دیا ہے۔ یعنی سرمایہ لگانے والوں کو اب تک ۴۳۱ فیصد تک منافع دیا جاچکا ہے۔انھوں نے کہا کہ ہمارا عزم ہے کہ شریعت کے مطابق کام کرنا ہے۔ہمارے کام میں جان بوجھ کر ایک روپیہ بھی ایسا نہیں ہے جس پر حرام کا شائبہ ہو۔ انھوں نے کہا کہ مکمل شریعہ کمپلائنس مضاربہ ہے۔ جناب عبدالغفار عمر نے بتایا کہ پیراماونٹ مضاربہ کے سی این جی پروجیکٹ نے اچھی کارکردگی دکھائی ہے۔ ہم نے مشارقہ سرٹیفیکیٹ کے لئے درخواست دی ہے۔ انشاءاللہ اس کام میں بھی سرخرو ہوں گے۔تقریب میں پیراماونٹ کے جنرل مینیجر شکیل خان نے خوبصورت کپئیرینگ کی۔

No comments:

Post a Comment