Tuesday, April 22, 2014

بزرگ شہریوں سے شرمناک رویہ کب تک۔۔۔۔؟

بزرگ شہریوں سے شرمناک رویہ کب تک۔۔۔۔؟
عطا محمد تبسم
دروازے پر دو نوں گارڈ انتہائی مستعدی سے جمے ہوئے تھے۔میں نے جوں ہی دروازہ کھولا تو محسوس ہوا جیسے کسی اولڈ ہوم میں آگیا ہوں۔ عورتیں بھی تھیں اور مرد بھی ، سب ہی اپنے عمروں کو گھلا چکے تھے، ان میں سے کچھ ابھی تازہ دم تھے۔ جیسے نئے نئے اس جگہ آئے ہوں۔یہ بھی ایک بنک ہی تھا، جس میں لوگ اپنی جمع پونجی رکھتے ہیں۔ تاکہ زندگی کا رشتہ برقرار رہے،اچانک ہی پرشور آواز ہوئی،آپ نے اس وقت دستخط کیوں نہیں چیک کیئے جب ، آپ نے سرٹیفیکیٹ ایشو کیے تھے۔ اب یہ دستخط نہ ملنے کا بہانہ کیوں بنا رہے ہیں، تھوڑی دیر میں تلخی بڑھ گئی۔ اب کئی لوگوں نے مداخلت کی۔ دلاسا دیا۔ لیکن معاملہ دیر تک گرم رہا۔ میں ایک افسر سے پوچھا ماجرا کیا ہے۔ ناراضگی کس بات پر ہے۔ اس نے بتایا کہ جب ان صاحب نے سرٹیفیکیٹ کے لئے درخواست دی تھی۔ اس وقت انھوں نے اپنے بیٹے کے دستخط کاغذات پر خود ہی کر دیئے تھے۔ اب جب وہ کیش کرانے آئے تو پتہ چلا یہ دستخط مختلیف ہیں۔ بیٹے کو بلایا تو اس کے دستخط بھی مختلف نکلے۔ یوں ان صاحب کو کچھ مشکل کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ہمارا عمومی رویہ کچھ ایسا ہی ہے۔ انشورنس کے ایک مالیاتی ادارے سے وابستگی کے دوران مجھے اکثر ایسے واقعات کا سامنا کرنا پڑتا تھا، جہاں یہ شکایت عام تھی، یعنی دستخط کا نہ ملنا، ان میں ستر فیصد سے زائد ایسے کیسز تھے، جن میں ایجنٹ حضرات نے بلا تکلف بیمہ دار کے دستخط کیئے ہوتے ہیں۔ دوسرے جانب بیمہ دار یا پالیسی ہولڈر کی بے اعتنائی یا ایجنٹ پر ایسا اعتماد ہوتا کہ اس نے کبھی اس بات کو چیک ہی نہیں کیا ہوتا کہ پالیسی کی دستاویزات پر کس کے دستخط ہیں۔ نتیجہ خا صا نقصان دہ ہوسکتا ہے، انشورنس کمپنی یہ معاہدہ منسوخ کرکے انشورنس کی رقم کی ادائیگی سے انکار کرسکتی ہے، یا ان دستخط کے ذریعے فراڈکرکے انشورنس کی رقم ہتھیائی بھی جاسکتی ہے۔ اکثر افراد ایجنٹ حضرات کو کیش میں رقم ادا کرتے ہیں اور برسہا برس رسید لینے کا تکلف گورا نہیں کرتے، نتیجے میں اکثر فراڈ یا رقم کو جمع نہ کرانے اور اپنے تصرف میں لینے اور خدانخوانستہ پالیسی کے کالعدم ہونے اور بیمہ پالسی کے غیر موثر ہونے کا واقعہ بھی پیش آسکتا ہے۔ ہمارے یہاں ہرسال لاکھوں افراد ملازمتوں سے رٹائرڈ ہوتے ہیں۔ لیکن اب تک ہم نے فنڈ مینیجمنٹ کی ایسی پرکشش اور سود سے پاک اسکیمیں شروع نہیں کی ہیں، جن کے ذریعے رٹائرڈ ہونے والے افراد اپنی رقوم سے کوئی فائدہ اٹھا سکیں۔ لے دے کر بچت کا قومی ادارہ نیشنل سیونگ ہی رہ جاتا ہے۔ اس طرح کسی فرد کے لئے سرمایہ کاری کے محدود مواقع ہیں۔ اور سود سے پاک کے سرمایہ کاری کے منصوبوں اور سودی منصوبوں میں منافع میں بہت زیادہ فرق ہے۔ کیا ہمارے ادارے اس قدر بانجھ ہوگئے ہیں کہ وہ حکومتی سر پرستی میں ایسی غیر سودی منافع بخش اسکیمیں جاری کرسکیں، جس سے بوڑھے، بیمار، اور خواتین فائدہ اٹھاسکیں۔ اسٹیٹ بینک نے جو رپورٹ جاری کی تھی اس کے مطابق سال گذشتہ کی پہلی ششماہی کے دوران قومی بچت اسکیموں میں گزشتہ مالی سال کے اسی عرصے میں کی جانے والی 254ارب 59کروڑ 91لاکھ روپے کی سرمایہ کاری کے مقابلے میں صرف 58ارب 92کروڑ 50لاکھ روپے کی نئی سرمایہ کاری کی گئی تھی۔اس سرمایہ کاری میں 76.86فیصد کی کمی آئی تھی۔ جبکہ دسمبر 2013 انتہائی مایوس کن مہینہ رہا تھا۔ جس میں قومی بچت کی سرمایہ کاری میں 22ارب 51کروڑ 40لاکھ کی کمی ریکارڈ کی گئی۔ اس سال کے شروع میں ادارہ قومی بچت نے قومی بچت اسکیموں کے شرح منافع میں اضافہ کیا جس سے صورتحال میں کچھ تبدیلی آئی ہے۔ ادارہ قومی بچت کے بہبود سیونگ سرٹیفکیٹ اور پینشنرز بینفٹ اکاونٹ کا سالانہ شرح منافع 13.44 فیصد سے بڑھا کر 140.4 فیصد کر دیا گیا ہے۔کسی بھی معاشرے میں سنئیر سٹیزن کا احترام ہی نہیں ، انھیںدریغ سہولتیں بھی دی جاتی ہیں۔ جہازوں کے کرائے ہوٹلوں ریستورانٹ ،ہر جگہ انھیں فوقیت دی جاتی ہے۔ لیکن ہمارے یہاں بزرگ شہری پر کوئی توجہ نہیں دی جاتی، نہ ہی ان کا کوئی پرسان حال ہوتا ہے۔ نیشنل سیونگ کے ادارے میں جس انداز میں انھیں اپنی رقوم پر آمدنی کے لئے آکر بیٹھنا اور انتظار کرنا پڑتا ہے، یا پینشن کے حصول کے لئے بنکوں پر صبح سویرے آکر لائین میں لگنا پڑتا ہے، وہ شرمناک ہے،یہ بزرگ شہری ہیں جنہوں نے اپنی زندگی اس ملک کے اداروں میں کھپائی ہے، ان کی جمع پونجی سے اب ان کے کچن کا خرچ بھی نہیں چلتا۔ بنکوں سے نکلتے ہوئے انھیں لوٹ مار ہی نہیں بلکہ بسا اوقات جان سے ہاتھ دھونا پڑتا ہے، کیا وجہ ہے کہ نیشنل سیونگ اپنے کھاتہ داروں کے منافع ہر ماہ ان کے بنکوں میں منتقل نہیں کرپاتا۔یہ کیوں ضروری ہے کہ وہ اپنی عزت نفس کو کھو کر ان اداروں کی لائینوں میں لگیں۔مشہور امریکی ماہر معاشیات نوبل لاریٹ جوزف اسٹیگلٹز (Noble Laureate Joseph Stiegltz)اپنی تازہ کتاب ’فری فال‘ (Freefall) میں لکھتاہے:”یہ عالمی معیشت قریب المرگ ہے۔ بحران نے نہ صرف موجودہ نظام کی خامیوں کو طشت ازبام کر دیاہے بلکہ ہمارے معاشروں کی خامیوں کی بھی نشان دہی کی ہے۔بہت سے لوگوں نے دوسروں کااستیصال کیا ہے۔ اعتماد اور بھروسے کا احساس ختم ہوگیا ہے۔ ہر آنے والے دن مالی معاملات میں بد عنوانی کی ایک نئی کہانی سنائی دیتی ہے۔ پونزی اسکیمیں،فریب کارانہ تجارت، غارت گرانہ قرضے، اور۔۔۔بد قسمت صارفین سے جتنالوٹ سکیں، لوٹ لینے والی۔۔۔ کریڈٹ کارڈز اسکیموں کا ایک اژدھام ۔ ترقی پسند معیشت کی یہ تصویر بہت ہی بری ہے، ہمارے یہاں تصویر بری ہی نہیں بلکہ بھدی، گندی اور تعفن زردہ ہے۔

No comments:

Post a Comment