Thursday, May 6, 2010

نیشنل انشورنس کمپنی میں اربوں روپے بدعنوانی کی نشاندہی


اسلام آباد)  ٹرانسپیرنسی انٹرنیشنل پاکستان نے نیشنل انشورنس کمپنی میں پبلک پروکیورمنٹ رولز کی خلاف ورزی کرتے ہوئے اربوں روپے کی بدعنوانی کی نشاندہی کی ہے ،چیئرمین نیشنل انشورنس کمپنی لمٹیڈ ایاز خان نیازی سے ٹرانسپیرنسی انٹرنیشنل نے باربار متعلقہ قوانین کی خلاف ورزی اوراس کے نتیجے میں کمپنی کو پہنچنے والے نقصان کے بارے میں دریافت کیا لیکن انہوں نے ٹرانسپیرنسی انٹرنیشنل کے استفسار پرتوجہ نہیں دی۔ بالاخرٹرانسپیرنسی انٹرنیشنل کے چیئرمین سید عادل گیلانی نے این آئی سی ایل‘رجسٹرار سپریم کورٹ‘ قومی احتساب بیورو‘ چیئرمین پبلک اکاؤنٹس کمیٹی اور آڈیٹر جنرل آف پاکستان کو خطوط میں اربوں روپے کی اس بدعنوانی کی تفصیل بھجوائی ہے خط میں کہاگیا ہے کہ نیشنل انشورنس کمپنی لمٹیڈ (این آئی سی ایل) کی انتظامیہ ایک سال کے دوران قومی خزانے کو پہنچنے والے نقصان سے متعلق وضاحت پیش کرنے میں لیت ولعل سے کام لے رہی ہے جبکہ پی آئی سی کے ایک ڈائریکٹر نے لاہور میں 803 کینال 19 مرلہ کے پلاٹ کی خریداری میں متعلقہ قوانین کی پاسداری نہ کئے جانے پر احتجاجاً استعفیٰ دیدیا ہے جو الزامات ٹرانسپیرنسی انٹرنیشنل پاکستان نے گزشتہ 6 ماہ کے دوران انشورنش کمپنی کوبھجوائے لیکن اب تک وضاحت نہیں کی ان کی تفصیل درج ذیل ہے ۔(i)لاہور میں مبینہ طورپر 803 کنال 19 مرلہ کے پلاٹ کاحصول جو سابق ایم این اے حبیب اللہ وڑائچ کی ملکیت ہے اورمارکیٹ میں حالیہ قیمت 3 لاکھ روپے فی کنال ہے جبکہ نیشنل انشورنش کمپنی اسے 20 لاکھ روپے فی کنال میں خریدرہی ہے ۔(ii) جولائی 2009 ء میں دبئی کے لبرٹی ٹاور میں دفتر کیلئے 2700 مربع فٹ جگہ 2700درہم فی مربع فٹ کے حساب سے حاصل کی گئی جبکہ اس کی مارکیٹ میں اصل قیمت1200 درہم فی مربع فٹ تھی ۔ اس سے قومی خزانے کو مبینہ طورپر 9 سو ملین روپے کانقصان پہنچا ۔(iv)میسرز کسابلا کو لاہور اور کراچی میں رنگ و روغن اورفرنیچر کیلئے 2کروڑ 69 لاکھ 87 ہزار روپے جبکہ اسلام آباد کیلئے 93 لاکھ 10 ہزارروپے کاٹھیکہ دیا گیا میسرز کسابلا پاکستان انجینئرنگ کونسل کی لائسنس یافتہ نہیں کراچی کاٹینڈر 6 منزلوں کے رنگ وروغن کیلئے تھا لیکن ٹھیکیدار کوصرف 4 منزلوں کے رنگ وروغن کو کہا گیا ۔(v) 2009 ء میں لاہور میں محسن وڑائچ سے ڈیڑھ ارب روپے میں زمین خریدی گئی جس کی مارکیٹ میں اس کی اصل قیمت صرف30 کروڑ روپے بنتی ہے اس طرح خزانے کو 1.2 ارب روپے کانقصان پہنچایاگیا۔ٹرانسپیرنسی انٹرنیشنل کی 8 اور23 اکتوبر 2009 ء کی شکایتوں پر میسرز روما بزنس کنسلٹنٹس جو پاکستان انجینئرنگ کی لائسنس یافتہ بھی نہیں کو 120 ملین روپے زائد قیمت پرکنٹریکٹ پی آئی سی نے منسوخ کردیا ٹرانسپیرنسی انٹرنیشنل درخواست کرتی ہے کہ غیر قانونی طورپر ٹینڈر منظورکرنے والے افسران کیخلاف کارروائی کی تفصیلات سے آگاہ کیاجائے ۔ ٹرانسپیرنسی انٹرنیشنل نے ایل این جی کیس میں سپریم کورٹ آف پاکستان کے 28 اپریل 2010 ء کے فیصلے کاحوالہ بھی دیا ہے جس میں عدالت نے یہ قرار دیا ہے کہ عدالت کا یہ فرض ہے کہ وہ پبلک پروکیورمنٹ رول 2004 ء پرعملدرآمد کویقینی بنائے۔













No comments:

Post a Comment