Wednesday, April 14, 2010

بھوربن میں اسٹیٹ لائف مارکیٹنگ کنوینشن

اسٹیٹ لائف انشورنس کارپوریشن نے سال رواں کی پہلی سہ ماہی میں پریمیئم سال اوّل کی مد میں ایک ارب68کروڑ روپے سے زائد کا نیا پریمیئم حاصل کرکے35.32فیصداضافہ ریکارڈ کیا ہے جبکہ 2009میں نئے پریمئیم کی مد میں انفرادی بیمہٴ زندگی کی پالیسیوں کے تحت 6ارب96کروڑروپے حاصل کرکے 40فیصد ریکارڈ اضافہ کیاتھا جبکہ اسی مدت کے دوران اسٹیٹ لائف نے اپنے بیمہ داروں اور انکے لواحقین کو مجموعی طورپر6ارب92کروڑ روپے سے زائد رقم کے کلمیز ادا کرکے بے شمار خاندانوں کو مالی تحفظ فراہم کیا۔یہ بات چیئرمین اسٹیٹ لائف شاہد عزیز صدیقی نے بھوربن میں اسٹیٹ لائف مارکیٹنگ کنوینشن کے موقع پر قومی میڈیا کے نمائندوں کو بریفنگ کے دوران بتائی۔انہوں نے کہا کہ اسٹیٹ لائف حکومتِ پاکستان کی اُس پالیسی پر گامزن ہے جس کی بنیاد عوام الناس کو مطمئن اور خوشحال زندگی فراہم کرنا اور اُنکے معاشی مسائل کو کم کرنا ہے۔اُنہوں نے بتایا کہ کارپوریشن نے ڈیتھ کلیم کی مد میں بیمہ داروں کے چھ ہزارچھ سو سے زائد خاندانوں کو تقریباً ایک ارب 15کروڑ روپے کے کلیمز ادا کئے جبکہ پالیسیوں کی تکمیل پر تقریباً47ہزار سے زائد خاندانوں کو 5ارب77کروڑ روپے سے زائد کی رقم ادا کرکے اُنکی معاشی ضروریات کو پورا کیا اوراُنہیں مالی استحکام دیا۔ انہوں نے بتایا کہ گزشتہ برس اسٹیٹ لائف کوتجدیدی پریمیئم کی مد میں15ارب36کروڑ روپے حاصل ہوئے جو 2008کے مقابلے میں 21.43فیصد زائد ہے۔ انہوں نے مزید بتا یا کہ عوام و خواص کو بچت کی طرف راغب کرتے ہوئے کارپوریشن کی مارکیٹنگ فورس نے 2009میں 5لاکھ26ہزار مزید خاندانوں کو بیمہٴ زندگی کے ذریعے معاشی تحفظ فراہم کیا۔اس طرح مجموعی طور پر گروپ اور انفرادی بیمہ کے تحت اب اسٹیٹ لائف کے بیمہ داروں کی تعداد70لاکھ سے تجاوز کرچکی ہے تاہم بیمہٴ زندگی کے ذریعے لوگوں کو معاشی تحفظ کی فراہمی کی بہت گنجائش باقی ہے۔ انہوں نے کہا بینک انشورنس اور تکافل کے منصوبوں میں بھی پیش رفت جاری ہے۔

No comments:

Post a Comment