Monday, March 8, 2010

گیارہ انشورنس کمپنیوں کونئی بیمہ پالیسیاں فروخت کرنے سے روک دیا

 ایس ای سی پی نے ایگرو جنرل انشورنس، دادا بھائی انشورنس کمپنی ، پاکستان میوچل انشورنس کمپنی سمیت 11 کمپنیوں کو قواعد و ضوابط کی خلاف ورزی پر نئی بیمہ پالیسیاں فروخت کرنے سے روک دیا ہے۔ ایس ای سی پی نے عام شہریوں کو بھی اطلاع دی ہے کہ ان کمپنیوں کے ساتھ کسی بھی انشورنس کنٹریکٹ میں داخل نہ ہوں۔ ایس ای سی پی نے اپنے اعلامیہ میں کہا ہے کہ ان کمپنیوں کے خلاف مناسب ایکشن کیلئے کارروائی کی جارہی ہے۔ ایس ای سی پی کا کہنا ہے کہ ملک میں انشورنس کے کاروباراور بیمہ کمپنیوں کے بہترانداز میں کام کو یقینی بنانے اور ان کمپنیوں سے بیمہ پالیسی حاصل کرنے والے شہریوں کے تحفظ کیلئے انشورنس آرڈیننس 2000 اور کمپنیز آرڈیننس 1984 موجود ہے۔ کمیشن قوانین پر عملدرآمد کا جائزہ لیتا رہتا ہے۔ ایس ای سی پی کی تحقیقات میں یہ بات سامنے آئی ہے کہ کچھ کمپنیاں قواعد ضوابط کی خلاف ورزی کر رہی ہیں۔ ان میں کانٹینینٹل انشورنس کمپنی، ہالی رک انشورنس کمپنی، نیشنل جنرل انشورنس ، نارتھ اسٹار انشورنس کمپنی، فیلڈ انشورنس کمپنی، اتفاق جنرل انشورنس کمپنی، پاکستان میوچل انشورنس کمپنی، یونین انشورنس اور کوآپریٹو انشورنس سوسائٹی آف پاکستان شامل ہیں۔ دریں اثناء ایک اوراطلاع کے مطابق ایس ای سی پی نے قواعد و ضوابط کی خلاف ورزی پر بیمہ پاکستان سمیت 8 کمپنیوں کے خلاف کارروائی کا آغاز کررہا ہے۔ ان کمپنیوں میں بزنس اینڈ انڈسٹریل انشورنس، پاک ناردرن انشورنس، پاکستان گارنٹی انشورنس، پلاٹینم انشورنس، پروگریسو انشورنس اسٹینڈرڈ انشورنس، اسٹرلنگ انشورنس کمپنی شامل ہے جبکہ ڈیلٹا انشورنس اور گلف انشورنس کے بارے میں عوام کو اطلاع دی گئی ہے کہ یہ کمپنیاں تحلیل کے مراحل میں ہیں اس لئے عوام ان کمپنیوں سے معاملات طے کرتے وقت محتاط رہیں۔

No comments:

Post a Comment