امریکہ میں چارکروڑ60 لاکھ افراد سے زیادہ افراد کے پاس کوئی ہیلتھ انشورنس نہیں تھی۔ اب جب کہ ملک میں ہیلتھ کیئر میں اصلاحات لانے کوششیں کی جارہی ہیں، امریکہ کے شہر سان فرانسسکو نے ہیلتھ انشورنس سے محروم رہائشیوں کی صحت کی دیکھ بھال کی سہولتوں کی باآسانی فراہمی کے لیے اپنا ایک سستا پروگرام شروع گیا ہے۔ ابھی کچھ عرصہ پہلے تک لگ بھگ آٹھ لاکھ نفوس پر مشتمل اس شہرمیں 60 ہزار سے زیادہ بالغ رہائشیوں کے پاس کوئی ہیلتھ انشورنس نہیں تھی۔ گذشتہ دو سال کے دوران ان میں سے تین چوتھائی افراد نے ’ Healthy San Francisco‘ نامی اس پبلک پروگرام میں اپنی رجسٹریشن کرائی ہے۔
پاک قطر تکافل اور اسٹینڈرڈ چارٹرڈ بینک میں معاہدہ
.پاک قطر تکافل کی مصنوعات پاکستان بھر میں اسٹینڈرڈ چارٹرڈ بینک سے بھی فروخت کی جارہی ہیں۔ اسٹینڈڑ چارٹرڈ بینک،، پاک قطر تکافل اور جرمنی کے ایف ڈبلیو یو گروپ کے درمیان ایک معاہدہ طے پایا ہے جس کے تحت پاکستان میں پاک قطر تکافل کی بیمہ مصنوعات کو اسٹینڈرڈ چارٹرڈ بینک کی برانچوں سے فروخت کیا جاسکے گا۔ پاک قطر تکافل پاکستان کی پہلی شرعی اصولوں کے مطابق زندگی کا بیمہ فراہم کرنے والی کمپنی ہے
سپریم کورٹ علاج کی سہولت کی یقین دہانی پر ازخود نوٹس:
سپریم کورٹ نے پاکستان ری انشورنس کمپنی لمیٹڈ کی طرف سے ریٹائرڈملازمین کے بچوں کو علاج کی سہولت فراہم کرنے کی یقین دہانی پر ازخود نوٹس نمٹا دیا اور واضح کیا ہے کہ زندگی بچانے کی ادویات اور سہولیات ہرانسان کاحق ہے جس کی آئین کے آرٹیکل 9میں بھی وضاحت کی گئی ہے چیف جسٹس افتخار محمدچوہدری ،جسٹس چوہدری اعجاز احمد اورجسٹس محموداخترشاہ صدیقی نے اس ازخود نوٹس کی سماعت کی کمپنی کے ایک ملازم حاجی محمداسماعیل نے ریٹائرمنٹ کے بعد بچوں کو علاج کی سہولت نہ ملنے پر عدالت سے رجوع کیاتھا جس پروزارت تجارت کے ڈپٹی سیکرٹری ایڈمن محمدنفیس پیش ہوئے انہوں نے عدالت کو بتایا کہ کمپنی کی طرف سے ریٹائرڈ ملازمین کے بچوں کو علاج کی سہولیات فراہم کرنے کی ہدایات جاری کی جاچکی ہیں اور یہ فیصلہ بورڈ آف ڈائریکٹر نے کیا ہے عدالت نے اس کمپنی کے فیصلے کو سراہتے ہوئے کہا کہ علاج کی سہولت ہرشہری کا حق ہے اورازخودنوٹس نمٹادیا
پاکستان پوسٹل لائف انشورنس یونین
پاکستان پوسٹل لائف انشورنس یونین(سی بی اے) کے مرکزی جنرل سیکریٹری سید قمر عبا س زیدی کی قیادت میں پوسٹل ملازمین کا ایک احتجاجی مظاہرہ کراچی پریس کلب پر منعقد ہوا۔ جس میں پوسٹل ملازمین نے کثیر تعداد میں شرکت کی مظاہرین نے بینرز اور پلے کارڈ اٹھارکھے تھے
لندن میں کار انشورنس پریمیم میں 20 فیصد اضافہ
لندن میں ایک سال کے دوران کار انشورنس پر پریمیم میں 20 فیصد تک کا اضافہ ریکارڈ کیا گیا، گزشتہ روز اس کا انکشاف کیا گیا،اطلاعات کے مطابق اس وقت انشورنس کا اوسط پریمیم 564.19 پونڈ ہے یہ رقم گزشتہ سال کے مقابلے میں 20 فیصد زیادہ ہے۔ کنزیومر انٹیلی جنس نامی ادارے کی مارکیٹ ریسرچ رپورٹ کے مطابق پریمیم میں اضافے کے بعد اب 17-24 تک کے نوجوانوں کو سب سے زیادہ ادائیگی کرنا ہوگی یعنی ان کے پریمیم میں کم وبیش25 فیصد زیادہ اور 65 سال عمر کے لوگوں کو سب سے کم پریمیم دینا ہوگاان کے پریمیم میں 15 فیصد تک اضافہ ہوگا۔گزشتہ 12 ماہ کے دوران مرد کی انشورنس پالیسی کے پریمیم میں 20.1 فیصد اور خواتین کے پریمیم میں 19.1 فیصد کا اضافہ ہوا ہے، جولوگ سب سے کم پریمیم ادا کرتے ہیں وہ55-64 سال تک کے لوگ ہیں
انشورنس کی رقم کیلئے بھارتی طالبعلم نے جھوٹی کہانی بنائی
بھارتی طالب علم نے اپنے اوپر حملے کی جھوٹی کہانی بنائی تھی کہ چار افراد نے ان پر حملہ کیا اور پھر ان کی کار کو آگ لگا کر بھاگ گئے۔ اس بات کا انکشاف ا?سٹریلوی پولیس نے کیا ہے کہ مزکورہ طالبعلم نے اپنی انشورنس کی رقم واپس لینے کیلیے مفروضے پر مشتمل فرضی کہانی تشکیل دی تھی۔ ا?سٹریلوی پولیس کا کہنا ہے کہ جسپریت اپنے گاڑی کو آگ لگاتے وقت جھلسے تھے اس لیے ان پر میلبرن میں پولیس سے جھوٹ بولنے کا الزام ہے۔ آسٹریلوی حکام کا کہنا تھا کہ آسٹریلیا میں بھارتیوں پر حملوں میں بعض نسل پرست حملے ہوسکتے ہیں لیکن بیشتر معاملات لوٹ مار کے ہیں۔
No comments:
Post a Comment